یاد رہنے والی زندگی پانچ،چھے سال کی عمر سے شروع
ہوتی ہے۔ پھر قبر تک ساری عمر کسی نہ کسی شکل میں یاد رہتی ہے۔ خواہ وہ کسی کے سامنے
اظہار کے لائق ہو یا چھپانے والی۔ اس کا انحصار تو آپ پر ہے کہ آپ زندگی کو کس
راستے پر لے کر چلتے ہیں۔ بہرحال اسکول کا زمانہ زیادہ اچھا اور یادگار ہوتا ہے۔اس
میں ریاکاری نہیں ہوتی، اخلاص ہوتا ہے۔ حسد نہیں ہوتا ، محبت ہوتی ہے۔ دوستوں کی
تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ امیر اور غریب کی تفریق نہیں ہوتی۔ اسکول دور کی باتیں حسین
یادیں بن کر دل میں رہتی ہیں۔ ٹیچرز زندگی بھر یاد رہتے ہیں۔ اس دور کی یاد کی
ہوئی چیزیں اورسمجھی ہوئی باتیں ،عملی زندگی میں یاد بھی آتی ہیں اور کام بھی۔
زندگی کے کسی موڑ پر اسکول کا دوست مل جائے تو زمانے کے فاصلے سمٹ جاتے ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ وہ بچے جو اسکول نہیں گئے ہوتے۔
جن کی زندگی کے یہ حسین ایام سڑکوں پر، ورکشاپوں اور فیکٹریوں میں یا لوگوں کے
گھروں میں گزرتے ہیں۔بڑے ہوکر ان کی کیا یادیں ہوں گی اور کیا باتیں ہوں گی۔ اسی
بچپن میں ان کی زبانیں دراز، مزاج تیز، عادتیں خراب اور نہ جانے کیا کیا کچھ وہ
اپنے دامن میں اکٹھا کرلیتے ہیں۔ آنے والی زندگی میں یہی کچھ وہ لٹائیں گے۔ اگر
کسی کو اللہ نے دولت سے نوازدیا تو وہ معاشرے سے اپنے بچپن کا پورا پورا حساب لے
گا ۔مگر جو یادیں اور باتیں اسکول کے دوستوں کی ہیں اس کا تو کوئی جواب ہی نہیں ۔
ان کا معیار اعلیٰ اور ان کا انداز نرالا ہے۔
میں جب اسکول میں تھا۔ اس زمانے میں آج والی
سہولیات نہیں تھیں، پرائمری میں نے اپنے گاؤں میں پاس کیا جہاں ہم گرمیوں میں درختوں کی چھاؤں تلے
اور سردیوں میں دھوپ میں ٹاٹ بچھا کر پڑھا کرتے تھے۔ میرے جیسے اکثر بچوں کے صباحی
اسمبلی میں نلکے پر منہ دھلوائے جاتے تھے۔ تختی لکھ کر لانا ضروری تھا۔ بہت خوب
صورت دور تھا، سب دوست مل کر کھیلتے اور
یادیں بنایا کرتے تھے۔ وہ استاد، وہ کلاس فیلوز ، وہ لمحے کبھی نہیں بھولیں گے
۔مڈل اور ہائی جماعتیں میں نے شہر کے پرائیویٹ سکول سے پاس کیں جہاں نئی یادیں،
نئے دوست، نئے اساتذہ ملے۔ آج جب کبھی میں ماضی میں جھانکتا ہوں تو وہی استاد اندھیری راتوں میں روشنی کی طرح چمکتے نظر آتے
ہیں۔ بعد میں نہ ویسے استاد ملے اور نہ ہی اتنے مخلص ہم جماعت۔ کیا دور تھا استاد
ہمیں کامیاب دیکھنے کے لیے پریشان ہوتے تھےاورطلبا سے اپنےبچوں کی طرح محبت کرتے تھے۔ہم سبھی کلاس
فیلوز ایک دوسرے سے لڑتے بھی تھے، شکوے شکایات بھی ہوجاتی تھیں مگر ایک دوسرے پر
جان چھڑکتے تھے۔
آج میں اگر اسکول کی طرف نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے
صاف دکھائی دیتا ہے کہ جو اس وقت جس طرح کے اسٹوڈنٹس کے ساتھ تھا۔ آج بھی ویسا ہی
ہے۔ جس نے اپنی پڑھائی کو توجہ دی اور لگن اور شوق سے پڑھا وہ آج بھی معاشرے میں
بہتر جگہ پر ہے ۔ اور جو اس زمانے میں بےپروا ہ تھا آج معاشرہ اس سے بے پروا ہ ہے۔
ایک اور اہم بات یہ کہ ہماری دوستیاں جس طرح سے قائم ہوئیں بالکل اسی طرح آج بھی
ہیں۔ ان کی تقسیم اور گروپنگ آج دن تک قائم ہے۔ یہ پہچان بھی ہیں اور مان بھی ۔ اس
لیے دوستیاں بھی اسکول کی اور لرننگ بھی اسکول کی۔
زندگی کے کئی زاویوں کا رنگ دیکھا۔ خوشی‘ غم اور احساس زماں و مکاں
نے بھی کئی سوچوں اور فکری صلاحیت کے گل کھلانے کی سعی کی جن میں سے کچھ قصہ
پارینہ ہو گئے اور کچھ نقشِ سدا کی قید میں آ گئے۔ شب و روز کا تیزی سے سفر‘ زمانے
کی گردش اور ماہ و سال کے بدلتے ہوئے کئی موسموں کو قریب سے دیکھا۔ بچپن‘ لڑکپن
اور اب جوانی کے کئی انداز اور تیور جو میرے وجود کے رگ و پے میں سما چکے ہیں جن
میں کچھ دکھ ہیں اور کچھ خوشی کے نغمے ہیں جو میرے کانوں کو مسحور کر رہے ہیں۔ مگر
مجھے حقیقی خوشی نہیں ملتی‘ حقیقی خوشی تو مجھے بچپن میں ملتی تھی اور بچپن کی
لطافتیں مجھے ڈھونڈنے سے بھی کہیں آواز نہیں دیتیں۔ جس مٹی کے ٹیلے پر ہمارا گارے سے بنا ہوا سکول کا اکلوتا
کمرہ تھا وہاں اب آبادی کا ہجوم نظر آتا ہے۔ سکول کے حسین نقش و نگار دھول میں بدل
چکے ہیں۔ یہ صرف چندبرس پہلے کی کہانی ہے۔ وہ پرائمری سکول اس وقت ہماری بستی سے
تقریباً تھوڑا ہٹ کے تھا، آج کل وہاں مڈل سکول بن چکا ہے۔
اساتذہ کرام کے بھی چند
چہرے اب بڑھاپے کی قید میں ہیں اور بیشتر راہی عالمِ بقا ہو چکے ہیں۔ اﷲ ان کو
کروٹ کروٹ سکون دے آمین۔ سکول میں ساتھ پڑھنے والے دوست اور ہم جماعت گردشِ زمانہ
کی چکی میں پس رہے ہیں۔ کچھ کے ساتھ تو معمولی واسطہ ہے اور کچھ کے ساتھ بالکل
تعلق ہی نہیں رہا اور کچھ پہچاننے سے بھی عاری ہیں اور کچھ پہچان کر بھی منہ موڑ
لیتے ہیں۔ حالات کی ستم ظریفی ہے یا انسان کی اپنی قسمت‘ جو کچھ بھی ہے ہر حال
انسان‘ انسان سے کوسوں دور ہوتا جا رہا ہے۔ میرے ساتھ سکول میں پڑھنے والے اب سے
ہی اچھے خاصے بزرگ نظر آتے ہیں اور اکثر سر کے بالوں کی نعمت سے بھی محروم ہیں جن
میں سے کچھ ملازم پیشہ ہیں ‘ کچھ تجارت کے گروہیں اور کچھ اپنے اپنےمشاغل کی موجِ
بے کراں میں ہیں مگر مجھے جو احساس ہوتا ہے کہ یہ وہ طبقہ ہے کہ سکول کے اوقات میں
ہم ایک دوسرے پر جان دیتے تھے مگر آج ہم سب گوشہ تنہائی میں کیوں پناہ گزین ہیں؟
میرا تو جی چاہتا ہے کہ میں ابھی وہاں جاؤں تو وہی سکول کی پرانی
اور مضبوط دیواریں ہوں ۔ وہی اساتذہ ہوں‘ وہی ان کا رعب اور جلال ہو اور وہی میرے
ہم جماعت ہوں اور بریک کے وقت روٹی پر نمک اور سرخ مرچ کا لیپ لگا کر کھالوں اور
پانی کو بطور بہترین مشروب پی لوں اور ٹاٹ پر پوری کلاس کی چھینا جھپٹی ہو اور ایک
جماعت یک مشت چھیننے آئے اور دوسری جماعت اسے اپنی کل کائنات سمجھ کر مورچہ زن ہو
اور چیخ و پکار میں ایک جماعت فاتح ہو جائے اور ہارے ہوئے ایک دوسرے کو طعنے دیں
کہ آپ نے سستی کی ورنہ میں اکیلا تین چار کو پچھاڑ چکا تھا اور میں اس دست و
گریباں سے دور گھیراؤں اور چلاؤں کہ ہمارا ہے ‘ ہمارا ہے۔ ہائے میں اب بھی تنہائی
میں چیخ کر کتھارسس کرتا ہوں اور خط اٹھاتا ہوں اور خیالوں میں سکول کے اکیلے درخت
کی ٹھنڈی چھاؤں میں ریت پر لیٹا رہتا ہوں۔ اپنے عام سے کپڑے کے بنے ہوئے سکول بیگ
کو سرہانہ بناتا ہوں۔ ٹھنڈی ریت کو مٹھی میں بند کرتا اور کھولتا ہوں کبھی استاد
کے خوف سے روتا ہوں اور کبھی سکول سے بھاگ آتا ہوں۔ میرے ہم جماعت مجھے پکڑ رہے
ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ اب ایک خواب ہو چکا ہے اور میرے معروض میں سما کر زندگی کے
کئی انداز دکھاتا ہے لیکن یہ اب حقیقت میں نہیں بدل سکتا۔ مگر وہ لوگ بشمول میں جو
ایک ہی درس گاہ کا حصہ تھے وہ ایک دوسرے سے دور کیوں ہیں۔ واﷲ میں تو اب بھی پہلے
جیسا ہوں میرا دل ‘ دماغ ‘ جسم اور سوچ بھی پہلے جیسی ہے۔






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں