چھٹیاں یہ گرمیوں کی

موسم گرما کی چھٹیوں میں طلبہ کو تعلیمی و با مقصد سر گر میوں میں مصروف رکھنا ایک اہم ترین ہدف ہے ۔ تا کہ چھٹیوں سے پہلے پڑ ھا ئے گئے اسباق چھٹیوں کے دوران یا بعد میں بھی یادرہ سکیں۔ عصر حا ضرمیں طلبہ و طالبات کو گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران مصروف رکھنا اساتذہ و والدین کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔معا شر ہ میں مو جود بے شمارمنفی تفریحی ذرائع اورطلبہ و طالبات کو اُ ن کے ہدف کے راستہ سے بھٹکانے والے عوامل کی مو جودگی میں طلبہ و طالبات کو موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران بھی ٹریک پر رکھنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ لہذا والدین کو اس چیلنج کی مو جودگی میں اس مسئلہ کے حل کے لیے غو رو خوض کی بہت ضرورت ہے۔
ایک حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق’’ وہ علم ضا ئع گیا جس میں اضافہ نہ ہو‘‘۔او رتعلیمی نفسیا ت کے مضمون میں آموزش کے قوانین کے مطابق ایک اہم قانون (قانون برائے دوہرائی Law of Repitition (کے مطابق جب تک طلبہ وطالبات پڑھائے گئے سبق کو بذاتِ خو د نہیں دوہرائیں گے اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ لہذا آموزش کے اس اہم قانون کی روشنی میں طلبہ و طالبات کو موسمِ گرما کی چھٹیو ں کے دوران بھی اپنی تدریسی سرگرمیوں کے ساتھ منسلک رکھنا بہت ضروری ہے ۔ تا کہ چھٹیوں سے پہلے پڑھائے گئے کورسز کو چھٹیوں کے دوران اور بعد میں بھی موثر اور کارآمد بنایا جا سکے ۔
ایسا کام (تحریری یازبانی) جو کمرہ جماعت میں پڑ ھا ئے گئے اسباق ، معلومات ،نصاب وغیرہ کی دوہرائی کے لیے گھر میں قیا م کے دوران کر نے کو دیا جا ئے ہو م ورک کہلا تا ہے۔ڈکشنری آف ایجو کیشن کے مطابق’’ سکول میں اساتذہ کی طرف سے دیا جانے والا وہ کام جو طلبہ سکول ٹا ئم کے بعد گھر میں مکمل کرتے ہیں ہوم ورک کہلاتا ہے‘‘۔ گرمیوں کی چھٹیو ں کے دوران طلبہ و طالبات کو با مقصد تعلیمی سر گرمیوں میں مصروف رکھنے کے لیے روایتی طریقہ ہوم ورک سے ہٹ کر جدید تحقیقی قسم کے منصوبہ جات کی با مقصد اور تعلیمی سر گرمیوں میں مصروف رکھنے کے لیے تکمیل پر مبنی ہوم ورک دیناوقت کی اہم ضرورت ہے۔

چھٹیوں کے ہوم ورک کی اہمیت
طلبہ کی تعلیمی ترقی اور علم میں اضا فے کے لیے چھٹیو ں کا کا م بہت اہمیت کا حامل ہے۔ چھٹیو ں کے کا م کی اہمیت اور افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہے بلکہ اگر یہ کام مخصو ص طریقہ اور انداز سے دیا جائے اور اس کو چھٹیوں کے بعد دوبارہ جانچا بھی جائے تو یہ تعلیم کی ترقی کے لیے بہت موثر ذریعہ ہے ۔اس سے بہت سے فوائد حاصل  ہوتے ہیں۔

چھٹیو ں کے کام کے مقاصد
سکول میں بچوں کو جو کام گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے دیا جا تا ہے اس کے چند اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
v    طلباء کی ذ ہنی قا بلیت کو پروان چڑ ھا نا
v    طلباء کو فارغ اوقات میں مصر و ف رکھنا
v     طلبا ء کی خوشحطی میں اضا فہ کرنا
v    بچوں کی تحریر میں روانی پیدا کرنا
v    احساس ذمہ داری پیدا کرنا
v    سکول میں پڑھائے گئے اسباق/ابواب کی دوہرائی کا موقع دینا
v    طلباء کو شامل نصاب اسباق کو یا د کر نے کے قابل بنانا
v    نصا بی کتب تک ہی دوہرائی اور معلومات محدود نہ رہیں بلکہ مزید معلومات حا صل کرنے کے مواقع فراہم کر نا

گرمیوں کی چھٹیو ں کا کا م کیسا ہو نا چا ہیے؟
استاد اور شاگرد تعلیم یا علم کے پروگرام کے دو لا زمی عنا صر ہیں ۔ایک مثا لی معلم طلبہ کو سکول میں پڑھا نے کے بعد گرمیوں کی چھٹیو ں کے لیے بھی کام دیتا ہے ۔گرمیوں کی چھٹیوں کا کام بچوں کی ضروریات اور دلچسپیوں کے مطابق ہو نا چا ہیے ۔براہ راست کتب سے سوالات کے انتخا ب کی بجائے معلم یا معلمہ خو د تخلیقی نوعیت کے سوالات بنا کر طلبہ کو ان کے جوابات تیا ر کر نے کی تر غیب دیں۔جماعت کے طلبہ سے مشاورت کر کے چھٹیوں کا کام تفویض کیا جا ئے اور چھٹیوں کا کام تحریری اور زبانی یادداشت دونوں طرح کا ہونا چا ہیے ۔چھٹیو ں کا کام اتنا زیا دہ نہ ہو کہ طلبہ کی تفریح ، آرام و سکون،ذاتی اور گھریلو مصروفیات کا وقت بھی چھین لیا جائے ۔چھٹیوں کا کام سزا کے طور پر نہ دیاجائے۔
چھٹیو ں کا کام تفویض کرتے وقت دونوں یعنی نصا بی اور ہم نصا بی سر گرمیوں پر مشتمل کام اور ہدایات جاری کر نی چاہیں ۔چھٹیوں کا کا م طلبہ کے مقامی مسائل ،طلبہ کی عمر اور ذہنی سطح سے مطا بقت رکھتا ہو ایسا کام ہی طلبہ پر خوشگوار اثرات مرتب کر کے مطلوبہ نتائج پیدا کر سکتا ہے ۔اردو اور انگریزی کے مضامین کے خلاصہ جات شامل ہوں ۔ یہ کام چھٹیو ں کے دورانیہ کے مطابق ہوتاکہ طلبہ معلوم سے نامعلوم کا طریقہ اختیار کر کے کام مکمل کر سکیں ۔چھٹیوں کا کام مقاصدِ تعلیم سے ہم آہنگ ہو ۔یہ کام طلبہ کی صحت پر بُر ے اثرات مرتب نہ کرے اور یہ کمرہ جماعت سے ملتا جلتا ہو تا کہ وہ آسا نی سے حل کر سکیں ۔

مطلوبہ نتا ئج کے لیے چھٹیو ں کا کا م کتنا ہو نا چا ہیے ؟
چھٹیو ں کا کا م اتنا ہو جس کو بچے آسانی سے کر سکیں نہ کہ اتنازیادہ کہ طلبہ کی باقی تمام دلچسپیاں ختم ہی ہو جا ئیں ۔اعلیٰ نتائج کے لیے بہترین چھٹیو ں کا کام یہ ہو سکتا ہے کہ طلبہ اس کو بآسانی کر نے کے ساتھ ساتھ کچھ وقت سیروتفریح اور کھیل کود کے لیے بھی نکال سکیں ۔ کیونکہ ایک صحت مند جسم میں ہی ایک صحت مند دماغ ہو تا ہے ۔اسی لیے ذہنی اورجسمانی صحت کے لیے سیر و تفریح اور کھیل کود نہایت ضروری ہے۔

چھٹیو ں میں طلبہ و طالبات کو با مقصد علمی ، ادبی ا ور تفریح سر گرمیوں میں مصرو ف رکھنے کے طریقے
v    مطا لعہ کی عادت پیدا کر نے کے لیے لائبریری ممبرشپ دلوائی جا ئے ۔
v    مختلف لینگوئج کو رسز کا اہتما م کیا جا ئے
v    کمپیو ٹر میں مہارت پیدا کر نے کے لیے کو ر سز کر وا ئے جائیں۔
v    خو شخطی کی کلاسز Arrangeکی جائیں۔
v    تعلیمی سیر ،عجائب گھر ،سا ئنس میوزیم ،تا ریخی مقامات وغیرہ کا اہتمام کیا جا ئے ۔
v    معلومات پر مبنی ٹیلی ویژن پروگرامز سب گھر والے مِل کر دیکھیں ۔
v    اخبار بینی کی عادت پیدا کی جائے
v    بچوں میں لکھنے کی عادت پیدا کر نے کے لیے روزانہ ڈائری لکھوانے کا اہتما م کیا جائے ۔
v    چھٹیو ں کا ہوم ورک صر ف تحریری نہ ہو بلکہ بچو ں کو تحقیقی اور تخلیقی Projectsدئیے جا ئیں تا کہ ان میں تعلیمی مہارتیں پیدا ہوں ۔
v    سماجی بہبود کے حوالے سے کوئی نہ کو ئی ذمہ داری بچے کو ضرور دی جائے مثلاگھر کے بزرگ یا بچے کی دیکھ بھال وغیرہ۔
v    سکول کے اندر سمر کیمپ کے ذریعے بھی طلبہ و طالبات کو موسمِ گرما کی چھٹیوں میں روزانہ یا ہفتہ وارتعلیمی سر گرمیوں میں مصروف رکھا جا سکتا ہے۔اس سلسلہ میں صبح سے لیکر دو یا تین گھنٹے تک مختلف سر گرمیو ں کو سر انجام دیا جا سکتا ہے ۔
v    طلبہ و طا لبات کو روزانہ کی بنیاد پر ٹا ئم ٹیبل تیا ر کر کے بھی دیا جا سکتا ہے ۔تا کہ وہ دن کا مخصوص حصہ صرف تعلیمی سر گرمیوں میں گزار سکیں۔
v    اس کے علاوہ لکھائی کی مہارت کے لیے انگریزی اور اردو مضامین، سائنس مضامین کے ماڈلز کی تیاری، اخبارات، میگزین اور کتابیں پڑھنا، علم کے اضافے کے لیے معلوماتی پروگرامات دیکھنا، انگریزی کی لکھائی اور بولنے کی مہارت کے لیے انگریزی پروگرامات دیکھنااور چارٹس کی تیاری وغیرہ کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔

از
مالک خان سیال

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں