آج کا دور مصروفیت سے معنون ہے ۔مسابقت کی غیر
صحت مند دوڑ میں خواہ چھوٹا ہویا بڑا ہر کوئی ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی تگ و
دو میں لگا ہے۔ عدیم الفرصتی کے اس دور میں خاندان کے پورے افراد کو اگر اکٹھاہوکر
چندیوم راحت و فرصت اور خوشی و مسرت سے بسر کرنے کا موقع حاصل ہوجائے تو یہ کسی
نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے۔ ہر سال گرمائی تعطیلات جہاں طلبہ، اساتذہ اور
تعلیمی اداروں کے لیے نوید مسرت و خوشیوں کا شادیانہ ہوتے ہیں وہیں والدین کی ذمہ
داریوں میں یہ ایک بڑے اضافے کا سبب بن جاتے ہیں۔گرماکی تعطیلات میں طلبہ کو با
مقصدسرگرمیوں میں مصروف رکھنا والدین کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ عام دنوں میں اسکول
کی روز مرہ نصابی سرگرمیوں، تعلیمی مصروفیات اوروقت کی قلت کی وجہ سے والدین بچوں
کی دینی و دنیوی تعلیم و تربیت کی سلسلے میں خو د کو مجبور محسوس کرتے ہیں۔لیکن
گرماکی تعطیلات والدین کو بچوں کی دینی و دنیوی تربیت کا ایک سنہری موقع فراہم
کرتی ہیں۔ مبسوط و منظم منصوبہ بندی کے ذریعہ تعطیلات میں والدین بچوں کی اصلاح
،کردار اور شخصیت سازی کی عمدہ کوشش کرسکتے ہیں۔ گرمائی تعطیلات کا آغاز ہوچکا ہے ۔گرمی
کے قہر سے بچے دن بھر گھروں میں محبوس ہوکر آوٹ ڈور سرگرمیوں میں حصہ لینے سے قاصر
ہیں۔ موسمی حالات کے پیش نظر والدین ایسا منصوبہ ترتیب دیں جو بچوں کو آؤٹ ڈور اور
ان ڈور سرگرمیوں میں حصہلینے میں معاون ثابت ہوں۔والدین چھٹیوں میں بچوں کے روز
مرہ معمولات اورغذا میں توازن برقرار رکھیں تاکہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشو ونما
بہترطریقے سے ہوسکے۔چھٹیوں میں اگر طلبہ کی نگرانی نہ کی جائے تو وہ منفی تفریحی
سرگرمیوں کی جانب مائل ہوجاتے ہیں ۔ اسی لئے والدین بچوں کی دینی تعلیم کی منصوبہ
بندی پر خصوصی توجہ دیں ٹی وی اسکرینس اور انٹر نیٹ پر وقت ضائع کرنے سے باز
رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے بچوں کو بہت ساری صلاحیتوں سے نوازا ہے، ان کی صلاحیتوں کو
صحیح راہ میں لگانا اساتذہ اور والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔
ماہرین تعلیم و نفسیات کے مطابق طویل معیادی
چھٹیوں میں بچوں کی روٹین خراب ہو جاتی ہے او ر وہ ا سکول نہ جانے کی وجہ سے اکثر
صبح دیر تک سوتے رہتے ہیں۔چھٹیوں کے دوران والدین کی جانب سے برتی جانے والی
لاپرواہی کا خمیازہ معصوم طلبہ کو بھگتنا پڑتا ہے۔بعض والدین چھٹیوں کو صرف آرام
کا وسیلہ سمجھ کراسے ضائع کردیتے ہیں۔چند والدین بچوں کی شرارتوں ،شورو غل یا پھر
دیگر وجوہات کی وجہ سے بچوں کو کسی اکیڈیمی یا ٹٹوریل میں داخل کرتے ہوئے خود کو
بری الذمہسمجھتے ہیں۔ایسی روایتی سرگرمیاں بچوں کے لئے اضمحلال کاسبب ہوتی ہے۔
ماہرین نفسیات و تعلیم کے نزدیک اس طرح کافیصلہ بچوں کی تخلیقی ،ذہنی و جسمانی
نشوونما کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔چھٹیوں کی موثر و منظم منصوبہ بندی سے بچوں کی
ذہنی، جسمانی اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ بخشا جاسکتا ہے۔تعطیلات میں نصابی و غیر
نصابی سرگرمیاں بچوں میں قائدانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں معاون ہوتی ہیں۔ذیل
میں چند ایسی تجاویز پیش کی گئی ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر طلبہ تعطیلات سے لطف
اندوز ہونے کے ساتھ اپنے فاضل وقت کو کارآمد طریقے سے گزارتے ہوئے تعطیلات سے خاطر
خواہ فائدہ اٹھا پائیں گے۔
تنظیم وقت کی تربیت؛۔
تعطیلات
میں بچوں کی تربیت کا پہلا مرحلہ شب و روز کے نظام الاوقات کا تعین ہے۔ والدین
بچوں کی عمر، تعلیم اور مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کی مشاورت سے ان کے
سونے جاگنے کے اوقات مقرر کریں۔
بچو ں کی صلاحیتوں کا جائزہ اور لائحہ عمل ؛۔
گرمیوں کی تعطیلات میں والدین بچوں کی تعلیمی
کمزوریوں کو کم سے کم کرنے کے لیے موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بہتر منصوبہ بندی
کے لیے والدین اساتذہ سے مل کر بچوں کی کمزوریا ں معلوم کریں اور اسے دور کرنے میں
معاون مشورے حاصل کریں۔بچوں کی گزشتہ تعلیمی کیفیت کا جائزہ لیں۔ان کی خوبیوں اور
خامیوں کی فہرست تیار کریں اور انھیں دور کرنے کے لئے جامع منصوبہ بندی کریں۔ایسی
خامیاں جن کو دور کرنے کے لئے زیادہ وقت مطلوب ہوتا ہے تعطیلات انھیں دور کرنے میں
کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔
آموختہ ؛۔
تعلیمی نفسیا ت میں آموختہ و اعادہ ( Law of Repeatation)کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اسی لئے طلبہ کو گر
ما کی چھٹیوں میں بھی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ منسلک رکھنا بہت ضروری ہوتاہے تا کہ
وہ چھٹیوں سے پہلے پڑھائے گئے اسباق چھٹیوں کے دوران اور بعد میں بھی یاد رکھ
سکیں۔
دینی تعلیم کا اہتمام؛۔
دینی
تعلیم کا حصول وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ گر ما ئی دینی کلاسس سے بھر پور فائدہ
اٹھا ئیں ۔ قریبی مسجد یا مدرسے میں جہاں صباحیہ (صبح کا مدرسہ) یا مسائیہ (شام کا
مدرسہ) تعلیم کا انتظام ہے وہاں بچوں کو شریک کرتے ہوئے ناظرہ قرآن پڑھانے کا بندو
بست کریں یا خود پڑھائیں ۔ قرآن پاک سیکھانے کی مناسب منصوبہ بندی کریں۔قرآن پاک
کی تلاوت سے نہ صرف خیرو برکت حاصل ہوتی ہے بلکہ ہماری زندگی میں ایک خوش گوار
انقلاب بھی رونما ہوتا ہے۔موسم کی شدت کے پیش نظر بچوں کی صحت کا خیال رکھنا اور
انھیں گرمی اور دھوپ سے بچانا بھی بے حد ضروری ہے۔اس کے لیے دن کے اوقات میں ان
ڈور سرگرمیاں ترتیب دیں اور سہ پہر میں کھیلنے کودنے باہر نکلیں۔گرمی میں مشروبات
اور سادہ غذا کا شیڈول ترتیب دینا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔ رمضان کا مبارک
مہینہ بھی اس سال چھٹیوں میں آ رہا ہے۔ والدین بچوں کو روزے رکھنے، واعظ و نصیحتیں
سننے، نماز یں پڑھنے، ذکر و اذکار کرنے، پاک صاف اور با وضو رہنے اور زیادہ سے
زیادہ نیکیاں اور ثواب کمانے کی ترغیب دیں۔ بچوں کو احادیث، آیات، ماثورہ دعاؤں کا
نصاب تیار کر کے دیں اور انھیں باقاعدگی سے زبانی یاد کرنے کی تاکید کریں۔ روزانہ
کی بنیادوں پر اس کا جائزہ لیتے رہیں۔ اس سلسلے میں والدین کوتاہی سے کا م نہ لیں۔
تفریح اور دعوتوں کے نام پر اولاد کو دین سے دور نہ کریں۔ والدین اگر دلچسپی کے
ساتھ روزانہ کے نظام الاوقات پر کاربند رہیں تو اس سے بچوں کو بہت فائدہ ہوگا ورنہ
والدین کی بے پروائی کی وجہ سے طلبہ سستی اور کاہلی کا شکار ہوکر اپنی قیمتی
چھٹیاں گنوا دیں گے ۔بچوں میں قرآن مجید سے قلبی لگاؤ اور محبت پیدا کرنے کے لیے
والدین روزانہ بچوں سے تلاوت کروانے کے ساتھ خود بھی قرآن مجید کی تلاوت کریں،
چاہے دو آیات ہی کیوں نہ ہوں اور جمعہ کے دن خاص طور پر سورہ الکہف کی تلاوت کر کے
سعادت و برکت حاصل کریں۔
دینی سمر کیمپس؛۔
اوقات کو غنیمت جانتے ہوئے اور وقت و عمر کی
قدردانی کرتے ہوئے اولاد کی تربیت کی فکر کریں۔ لایعنی اور فضول مشغلوں میں ان کے
اوقات کو ضائع کرنے کے بجائے دینی تعلیم و تر بیت کا مستقل انتظام کریں اورموسم
گرما میں چھٹیوں کے پیشِ نظر چلائے جانے والے’’سمر کلاسس‘‘ اور ’’ سمر کیمپس‘‘سے
بھر پور فائدہ اٹھا کر قرآن و سنت کی تعلیمات اور دین کی بنیادی معلومات حاصل کرنے
کا راستہ ہموار کریں۔ انشاء اللہ چھٹیوں کا بھی صحیح استعمال ہوگا اوروالدین بھی
اولاد کی تعلیم وتربیت میں کوتاہی کے گناہ سے محفوظ ہوجائیں گے۔ قرآن فرماتا ہے
’’ائے ایمان والو! اپنے آپ کو او ر اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ، جس کا ایندھن
انسا ن اور پتھر ہوں گے۔(التحریم :6)حضرت عمرؓ نے پوچھا ’’ یا رسول اللہ ﷺ اپنے آپ
کو تو جہنم سے بچاناسمجھ میں آگیا لیکن گھر والو ں کو کیسے بچائیں تو آپ نے فرمایا
کہ جس سے تم کو منع کیا گیاان کو منع کرواور جس کاتم کو حکم دیا گیا ہواس کا انھیں
بھی حکم دو۔اسی طرح آپ کا ارشاد ہے کہ: قیامت کے دن سب سے سخت عذاب میں وہ ہوگا
جواپنے گھر سے بے خبر رہا۔(روح المعانی:28/156)
تعلیمی سمر کیمپس؛۔
تعلیمی سمر کیمپس؛۔
اسکولوں
کی جانب سے منعقد کردہ سمر کیمپس بھی طلبہ کو موسم گرما کی چھٹیوں میں نصابی و غیر
نصابی سر گرمیوں میں مصروف رکھنے میں معاون ہوتی ہیں۔بچوں کودوسرے بچوں سے میل جول
بڑھانے ،آپس میں اکٹھے وقت گزارنے اورایک دوسرے سے سیکھنے میں سمرکیمپس مددگار
ہوتے ہیں ہر بچے میں قدرت نے کوئی نہ کوئی خوبی رکھی ہوتی ہے اس خوبی کو نکھارنے
کیلئے ان کی حوصلہ افزائی ضروری ہوتی ہے۔سمر کیمپس مختصر وقت ( دو یا تین گھنٹوں)
پر مبنی اپنی سر گرمیوں کے ذریعے طلبہ میں خوش خطی(Hand Writing) ،تحریری و تقریری مہارتوں کو فروغ دیتے ہیں۔ اخبارات ،میگزین اور
کتب بینی کے مشاغل اور دیگر معلوماتی پروگرامس ان سمر کیمپس کا خا صہ تصور کیئے
جاتے ہیں۔
(جاری ہے)






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں