بے روزگاری ایک لعنت

بین الاقوامی تنظیم محن (انٹرنیشنل لیبر آرگنائیزیشن) کے مطابق، انسان کی اس حالت کوبے روزگاری کہتے ہیں جب اسے روزگار میسر نہ ہو اور وہ گزشتہ چار ہفتوں کے اندر فعال طور پر کام تلاش کر چکا ہو۔
دہشتگردی پچھلے کئی سالوں میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سٹریٹ کرائم یعنی موبائل، پرس یا موٹر سائیکل وغیرہ چھین لینا خاص طور پر کراچی میں عام رہا ہے۔جب دہشتگردی اور سٹریٹ کرائم پر بات کی جاتی ہے تو انکی وجوہات میں بے روزگار ی کو اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔ بے روزگار نوجوانوں سے دہشتگرد تنظیموں کے نمائندے رابطہ کرتے ہیں ان سے دوستانہ تعلقات بناتے ہیں اور انکے والدین یا بال بچوں کی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں اور پھر اپنے نظریات اور سوچ کے مطابق انکا برین واش کرکے انکو دہشتگردی کی تربیت دیتے ہیں۔ اسی طرح بے روزگار نوجوان مالی مشکلات کاشکارہوکر چھوٹے موٹے چوری چکاری کے معاملات میں ملوث ہوجاتے ہیں۔اکثر اوقات انکے دوستوں کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔اگرایک بار گرفتار ہوکر جیل چلے جائیں تو پھر مستند چو ر یا ڈاکو بن کر نکلتے ہیں کیونکہ جیل میں انکا میل ملاپ پرانے مجرموں سے ہوتا ہے اور وہ ان سے جرائم کے تمام طریقے سیکھ جاتے ہیں ۔ اسلئے ضروری ہے کہ دہشتگردی کو کنٹرول کرنے اور سٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لئے دوسرے اقدامات کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کے خاتمے کی بھی کوششیں ہونی چاہئیں۔
بے روزگاری کی بڑی وجوہات ہیں آبادی میں بے مہار اضافہ ۔ امنِ عامہ کی خراب صورت حال ،بجلی اور گیس کی کمی اور ناقص حکومتی پالیسیاں شامل ہیں۔
آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ہر سال نئے روزگار کے مواقع کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر آبادی تیزی سے بڑھے تو زیادہ مواقع کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ اچھی سے اچھی معیشت رکھنے والا ملک بھی پیدا نہیں کرسکتا۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں آبادی بڑھنے کی شرح کو کنٹرو ل میں رکھاجاتا ہے۔پاکستان میں اس سلسلے میں نیم دلانہ اقدامات ضرور کیے گئے ہیں لیکن مصمم ارادے (Commitment) کے ساتھ کسی بھی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی ہے۔ اگر امن عامہ کی صورت حال اچھی نہ ہو تو کوئی بھی اپنا سرمایہ نئے کاروبار میں نہیں لگاتا۔ نئے روزگار زیادہ تر چھوٹے پرائیویٹ کاربارمیں پیدا ہوتے ہیںجہاں مالک کے ساتھ ساتھ کچھ اور افراد کو بھی روزگار مہیاہوجاتا ہے۔ بڑی سرمایہ کاری جیسے کہ کوئی فیکٹری لگانا ہواسکے لئے بھی سرمایہ دارسازگار ماحول تلاش کرتا ہے ۔پاکستان کے کئی سرمایہ کار تو اپنی فیکٹریاں ہی اٹھاکر بنگلہ دیش لے گئے ہیں اوروجہ صرف دہشتگردی سے بچنا ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں روزگار کے سب سے زیادہ مواقع انڈسٹری میں ہوتے ہیں۔ پاکستان میں توانائی یعنی بجلی اور گیس کی کمی کے باعث کچھ عرصہ پہلے تک مختلف انڈسٹریز کے بند ہونے کی خبریں آتی رہی ہیں۔ نئی انڈسٹری تو ظاہر ہے توانائی کے بغیر ناممکن ہے۔موجودہ حکومت نے اس مسئلے پرخاطر خواہ توجہ دی ہے اور بجلی بنانے کے نئے کارخانے لگ رہے ہیں اور کچھ نے کام بھی شروع کردیا ہے۔سی پیک کا منصوبہ یقینااس سلسلے میں صورت حال میں ایک بڑی تبدیلی لے کرآئے گا۔اس کے تحت بجلی پیدا کرنے کے متعدد منصوبے مکمل کئے جائیں گے اور اس کے بعد تمام صوبوں میں صنعتی زون قائم کئے جائیں گے جہاں صنعتکاروں کو انڈسٹری لگانے کیلئے مراعات اور ترغیبات دی جائیں گی۔یہ منصوبہ جوں جوں آگے بڑھے گا توقع ہے کہ روزگار کے لاکھوںمواقع پیداہوں گے۔
ناقص حکومتی پالیسیاں بھی بے روزگاری کاسبب بنتی ہیں۔بعض اوقات ایسے ٹیکس لگادئیے جاتے ہیں کہ صنعت کاروں کے لئے کام کرنا مشکل ہوجاتا چلتی ہوئی انڈسٹری بند ہوجاتی ہے اور مزدور بے روزگار ہوجاتے ہیں۔ ایسے حالات میں نئی انڈسٹری کالگاناتقریباً ناممکن ہوجاتا ہے۔پاکستان میں ہم نے دو سیاسی پارٹیوںکی حکومت دیکھی ہے۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں دونوں کی حکمت عملی بالکل مختلف رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نئے منصوبے لگانے یاترقیاتی کام شروع کرنے میں دلچسپی نہیں لیتی رہی بلکہ اپنے پارٹی کارکنوں جو جیالے کہلاتے ہیں انکو بڑے سرکاری اداروں یعنیPIA ،سٹیل مل اور واپڈا وغیرہ میں بھرتی کروا دیتی ہے۔ان اداروں میں نئے لوگوں کی کوئی ضرورت نہ ہونے کے باوجود بڑے پیمانے پر پارٹی کارکنوں کو بھرتی کیا گیا ۔یہ لوگ نہ صرف اداروں پرمالی بوجھ بنے بلکہ مناسب اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔ اسطرح ادارے نقصان میں چلے گئے اور اداروںکی ترقی رک گئی اور حقیقی روزگار کے مواقع پیدا نہ ہوسکے۔ن لیگ بڑے پراجیکٹ مثلاً موٹر ویز اور میٹرو وغیرہ شروع کرتی ہے جس سے عوام کی سہولتیں میسر آتی ہیں اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ن لیگ نے اپنے ہردور میں ایک ٹرانسپورٹ سکیم بھی شروع کی جیساکہ پیلی ٹیکسی اورآجکل ہر ے رنگ کی سوزوکی وین نظر آتی ہے۔ اس سکیم کے تحت لوگوں کو کم قیمت پر قسطوں میں ٹیکسی وغیرہ مہیا کیجاتی ہے اور اسطرح بہت کم سرمایہ سے روزگار مہیا کیاجاتا ہے۔ اسکے ساتھ گاڑیوں سے متعلق دوسرے شعبوں مثلاً ٹائر،بیٹری اور گاڑیوں کی مرمت کے شعبے میں بھی نئے روزگار پیدا ہوتے ہیں۔
حکومت کے پاس بہت وسائل اور اختیارات ہوتے ہیں جن کا مناسب استعمال کیاجائے تو یقیناً روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں۔مثال کے طورپراگر صرف حکومت ایسی پالیسیاں بنائے کہ رہائشی پلاٹوںکی قیمت کم ہوجائے تو لاکھوں لوگ نئے مکان بنانے کی ہمت پکڑ لیں گے کنسٹرکشن انڈسٹری روزگار کیلئے بہت اہم اندسٹری ہے۔نئے مکانات کی کنسٹرکشن سے مکان کی کنسٹرکشن پر براہ راست کام کرنے والے ہنرمند اور غیرہنر مندافراد یعنی مزدوروں، میسن، بڑھئی ،پلمبر ،الیکٹریش وغیرہ کے لئے روزگار پیدا ہوجاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ تقریباً 30-40 مختلف انڈسٹریز میں بھی کام بڑھ جاتا ہے جس میں سیمنٹ ،سریا،ٹائل ،بجلی اورپلمبنگ وغیرہ کا سامان شامل ہے۔
پاکستان میں بیروزگاری کی دو وجوہات اور بھی ہیں جن پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اول ہمارا نظام تعلیم اور دوسرے وہ بیروزگار جوکام کرنا ہی نہیں چاہتے ۔نظام تعلیم میں سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہ کتابی تعلیم دے کر گریجویٹ بنانے پر زور دیتا ہے جبکہ ہنرمند افراد پیداکرنے پرکوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ بی اے یا ایم اے کرانے کے100کالجوں کے مقابلے میں ایک ٹیکنیکل ادارہ بھی نظر نہیں آتا۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف کتابی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کیلئے مواقع بہت محدود جبکہ کوئی ہنر جاننے والوں کیلئے لامحدودمواقع ہیں۔اسلام آبادمیں اگر گھر میں الیکٹریشن یا پلمبرکی ضرورت پڑجائے تو دو تین دن بعد کا وقت دیاجاتا ہے۔اسی طرح ہسپتالوں میں کام کرنے والے آپریشن تھیٹر ٹیکنیشن، نظرٹیسٹ والے آپٹیشن وغیرہ کی شدیدکمی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک جامع پروگرام بنایاجائے جس میں نوجوان طلباء کو گائیڈکیاجائے کہ کن شعبوں میں روزگار کے مواقع موجود ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ ان شعبوں میں تعلیم دینے اورہنر سکھانے کے ادارے بھی قائم کئے جائیں ۔ اس سلسلے میں میڈیا اہم رول اداکرسکتاہے۔
بیروزگاروں کی ایک اور قسم بھی ہمار ے ہاں دیکھنے میں آتی ہے یہ وہ لوگ ہیں جو کام کرنا ہی نہیں چاہتے۔ان میں امراء کے بچے بھی شامل ہیں اورمتوسط طبقے اورغرباء کے بچے بھی ۔ امراء کے بچوں کواپنے دوستوں سے کہتے سنا جاتا ہے کہ میرے باپ کے پاس بہت پیسہ ہے مجھے کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ نہ مناسب تعلیم حاصل کرپاتے ہیں اورباپ کے بعد کاروبارکی تباہی کاباعث بھی بنتے ہیں انکی بڑی تعداد منشیات کا شکارہوجاتی ہے۔متوسط اورغریب گھروں کے بچے بُری صحبت میں پڑ کر سکول کالج سے بھاگ جاتے ہیں اور اگرتعلیم حاصل کربھی لیں تونوکری نہیں کرتے انکوجب تک والدین یاکوئی ماما چا چا یابہن بھائی روٹی کھلاتا رہتا ہے یہ کام نہیں کرتے ۔ یہ بھی منشیات کے عادی بن جاتے ہیں یادہشت گردتنظیموں یاعادی مجرموں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ذہنی مریض ہوتے ہیں اور انکو علاج کی ضرورت ہے۔ اگرآپکے خاندان یا دوستوں میں کوئی نوجوان سکول کالج سے بھاگ رہاہو یا کافی عرصے سے نوکری نہ کررہاہو تو اس پرنظر رکھیں۔ وہ منشیات کا عادی ہوسکتا ہے یابُری صحبت میں پڑچکا ہوتا ہے۔ ایسے نوجوانوں کو خاندان کے لوگوں کے سمجھانے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور مناسب علاج سے بھی انکو اچھاشہری بنایاجاسکتاہے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں